ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کا ہفتہ ؛ بھٹکل میں بچوں کو ویکسی نیشن دینے کی شرح کافی کم ہونے پر ظاہر کی گئی تشویش

بھٹکل میں نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال کا ہفتہ ؛ بھٹکل میں بچوں کو ویکسی نیشن دینے کی شرح کافی کم ہونے پر ظاہر کی گئی تشویش

Sun, 12 Nov 2023 01:05:43    S.O. News Service

بھٹکل 11/نومبر (ایس او نیوز)  بھٹکل سرکاری اسپتال میں سنیچر 11 نومبر سے  نوزائیدہ بچوں  کی دیکھ بھال کا ہفتہ منایا جارہا ہے جس کے دوران  خواتین کو نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال  کے تعلق سے  معلومات فراہم کی جائے گی ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بھٹکل سرکاری اسپتال کے ماہراطفال ڈاکٹر سرکشیت نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بھٹکل میں نوزائیدہ بچوں کے ویکسی نیشن  لینے  کی شرح بے حد کم ہے اور  نوزائیدہ بچوں کی ماوں کو اس تعلق سے  غفلت نہیں برتنی چاہئے۔

کاروار سے تشریف فرما  ڈسٹرکٹ چائلڈ ہیلتھ آفسر  ڈاکٹر ہرشا نے  چراغ جلاتے ہوئے پروگرام کا افتتاح کیا۔ پروگرام کے تعلق سے معلومات فراہم کرتے ہوئے   ڈاکٹر ہرشا نے بتایا کہ اکثر بچے پیداہوکر ایک ہفتے کے اندر انتقال کرجاتے ہیں،    نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح کو کم کرنا اور مناسب دیکھ بھال کے لیے لوگوں کو آگاہ کرنا  اس پروگرام کا اہم مقصد ہے۔ ایک بچے کی پیدائش نہ صرف اس کے لیے بلکہ اس کی ماں کے لیے بھی کسی معجزے سے کم نہیں ہوتی ، لیکن پیدائش کے بعد بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما درست طریقے سے ہونی چاہیے اور وہ کسی بیماری یا انفیکشن کی زد میں نہیں آنا چاہئے، اس کے لئے ضروری تدابیراختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ہر سال ماہ نومبر میں منعقد کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شرکشیت  شٹی نے نوزائیدہ بچوں کی دیکھ ریکھ کے تعلق سے مکمل معلومات فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ  بچے کی پیدائش کے بعد پہلے 24 گھنٹے اور پہلے 28 دن بہت حساس ہوتے ہیں۔ یہ ان کی زندگی بھر کی صحت اور ترقی کے لیے ایک بنیادی مدت سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات پیدائش کے وقت بچے کی ضروری جسمانی نشوونما کے فقدان، انفیکشن، اندرونی پیچیدگیوں اور پیدائشی خرابی کی وجہ سے ہر سال نوزائیدہ بچوں کی ایک بڑی تعداد پیدائش کے بعد پہلے مہینے میں ہی موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر شرکشیت نے کہا کہ  دس سال پہلے تک  نوزائیدہ بچوں کی اموات کے لئے مختلف قسم کے مسائل تھے۔مگر آج کل  اکثر بچوں کی پیدائش قبل ازوقت ہونے کی وجہ سے   اُن کی موت واقع ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  نارمل ڈیلیوری سے پیدا ہونے والے بچے کو اگر کوئی  مسئلہ درپیش ہوگا  تو ڈاکٹر اس کا خیال رکھ سکتا ہے۔ ایک نوزائیدہ بچے کو تھرمل دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے اور ماں کا دودھ بچے کے لئے  کافی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھٹکل میں اکثر مائیں اپنے نوزائیدہ بچوں کو وقت پر ویکسی نیشن نہیں دے رہی ہیں جس کی طرف خواتین کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سُرکشیت نے بتایا کہ پیدائش کے پہلے گھنٹے کے بعد نوزائیدہ کا مکمل جسمانی معائنہ کرنا اور درکار تمام ویکسین جیسے کہ OPV برتھ ویکسین، ہیپاٹائٹس بی ویکسین اور BCG وغیرہ کا لگوانا بے حد ضروری ہے۔عام طور پر پیدائش کے فوراً بعد کچھ بچوں میں یرقان یا کسی اور بیماری کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، ایسی صورت میں ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا اور بچے کا ضروری علاج کرنا ضروری ہے۔ جو بچے وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں، جو پیدائش کے وقت ناپختہ ہوتے ہیں، جن کا پیدائشی وزن کم ہوتا ہے یا جو پیدائش کے وقت سے ہی کسی خاص حالت میں مبتلا ہوتے ہیں، ان کا خاص خیال رکھنا اور ڈاکٹر کی جانب  سے دی گئی ہدایات اور احتیاطی تدابیر کے مطابق دیکھ بھال کرنا ضروری ہوتاہے۔ دودھ پلاتے وقت یا کسی بھی حالت میں بچے کی سانس لینے میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے، اس طرف ماوں کو توجہ دینا ضروری ہے۔ اگر بچہ مسلسل روتا ہے، یا اس کی سرگرمی میں کوئی غیر معمولی بات محسوس ہوتی ہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا  ضروری ہے۔

انکولہ سے  پدما شری ایوارڈ یافتہ شریمتی  سُکری بومن گوڈا مہمان خصوصی کے طور پر شریک تھی،جنہیں پروگرام میں تہنیت سے نوازا گیا۔ آر این ایس کالج آف نرسنگ، مرڈیشور  بھٹکل تعلقہ  سرکاری اسپتال  کے مشترکہ  تعاون سے یہ پروگرام منعقد کیا گیا تھا اور کالج کے  پرنسپال پروفیسرکیشو مورتی سی ڈی سمیت کالج کی نرسنگ کی کثیر تعداد میں طالبات بھی  موجود تھیں۔۔ بھٹکل سرکاری اسپتال کے  منتظم اور بھٹکل تعلقہ ہیلتھ آفسر ڈاکٹر سویتا کامتھ نے پروگرام کی صدارت کی۔


Share: